18 جون 2013 - 19:30
امريکا ميں گن کلچر

امريکا ميں گن کلچر کے تحت ہلاکتوں کا سلسلہ جاري ہے -

ابنا: شکاگو ميں دسيوں افراد ہلاک اور زخمي ہوئے - شکاگو ميں بدامني کا مسئلہ ہمشيہ موجود رہا ہے اور اس کو ايک بڑا مسئلہ سمجھا گيا ہے –امريکا کے گن کلچر سے يہ شہر سب سے زيادہ متاثر ہے جہاں جرائم پيشہ افراد کے گينگ موجود ہيں اور تشدد بھي يہاں زيادہ پاياجاتا ہے –  پير کے روز انجام پانے تازہ واقعے ميں دسيوں افراد ہلاک اور زخمي ہوگئے - گزشتہ مہينے بھي شيکاگو ميں فائرنگ کے واقعات ميں چھے افراد ہلاک اور سترہ زخمي ہوئے تھے –يہ ايسي حالت ميں ہے کہ اپريل دو ہزار تيرہ ميں شکاگو کے عوام نے ايک بڑا مظاہرہ کرکے اسلحے پر کنٹرول کا مطالبہ کيا تھا –اس مظاہرے ميں گن کلچر ، فائرنگ اور تشدد کے واقعات ميں اضافے اور  بے گناہ افراد  بالخصوص  بچوں کے قتل کي جانب سے حکام کي بے توجہي کي مذمت کي گئي تھي -اعدادو شمار کے مطابق دنيا ميں عوام کے پاس سب سے زيادہ اسلحہ  امريکا ميں پايا جاتا ہے - چنانچہ بتايا جاتا ہے کہ امريکا ميں ہر سو ميں سے نوے افراد کے پاس آتشيں اسلحہ موجود ہے –امريکا ميں اسلحے پر کنٹرول کے مطالبات ميں ، نيوٹاؤن  کے واقعے کے بعد شدت آگئ ہے -يہ واقعہ گزشتہ سال دسمبر کے اواخر ميں رونما ہوا تھا جس ميں ايک بيس سالہ لڑکے نے بچوں کے ايک  اسکول ميں وحشيانہ فائرنگ کرکے ، چھے سے سات سال کے بيس بچوں اور سات ديگر افراد کو ہلاک کرديا تھا –اس ہولناک ٹريجڈي کے بعد امريکا ميں اسلحے پر کنٹرول کے مطالبے ميں کافي شدت آگئي تھي اور صدر باراک اوباما نے بھي اسلحے سے متعلق قوانين کو سخت تر کرنے پر زور ديا تھا ليکن بعد ميں اسلحہ ساز کمپنيوں اور اسلحے کے تاجروں کے دباؤ ميں آکر اس پر عمل کرنے سے گريز کيا –امريکا ميں آتشيں اسلحے کي خريد وفروخت آزاد ہے- کوئي بھي شخص کسي بھي قسم کا اسلحہ خريد سکتا ہے - ايک اندازے کے مطابق امريکا ميں دو سو ملين سے زيادہ ذاتي  اسلحے موجود ہيں اور سالانہ تيس ہزار افراد آتشيں اسلحے کے استعمال سے ہلاک ہوتے ہيں -  ......./169